جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم، تو کیا ہو گا
زمیں کے بدلیں گے تیور، نہ آسمانوں کے
وہی سلگتی ہوئی ریت ہو گی ماضی کی
وہی سسکتے ہوئے خواب ہونگے فردا کے
جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم تو کیا ہو گا
روش روش پہ وہی دھول ہو گی جذبوں کی
نگاہ تھک کے کسی اجنبی دریچے میں
کسی خیال میں تصویر ہو چکی ہو گی
بدن سے وصل کا موسم، نکل چکا ہو گا
ہمارے ہاتھوں میں نہ تتلیوں کے پر ہونگے
کتابِ دل سے سبھی حرف مٹ چکے ہونگے
جو لوٹ آئے بھی ہم اپنے آپ میں واپس
تو واپسی کے لئے کوئی در کھلا ہو گا؟
تو راستے میں کوئی دیپ جل رہا ہو گا؟
تو پھول لے کے کوئی ساتھ چل رہا ہو گا؟
جو کنجِ ذات سے نکلے بھی ہم، تو کیا ہو گا
شائستہ سحر