MOJ E SUKHAN

گرمیء التفات کاٹی ہے

گرمیء التفات کاٹی ہے
جیتے مرتے حیات کاٹی ہے

جاں بہ لب ہی رہے لبِ دریا
زیست مثلِ فرات کاٹی ہے

جس نے بوئے قدم قدم پہ اشک
اس نے راہ_ نجات کاٹی ہے

اس نےپھررکھدیا ہےہاتھ پہ ہاتھ
اس نے پھر میری بات کاٹی ہے

لوگ آنکھوں میں رات کاٹتے ہیں
میں نے دانتوں سے رات کاٹی ہے

تب سمجھ پائے زندگی کو امین
خود سے جب اپنی ذات کاٹی

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم