MOJ E SUKHAN

تجھ کو پا لینے کے اسباب کہاں سے لاتا

تجھ کو پا لینے کے اسباب کہاں سے لاتا
نیند روٹھی تھی ترے خواب کہاں سے لاتا

مل گیا ایک دیا اس کو غنیمت سمجھو
رات کالی تھی سو مہتاب کہاں سے لاتا

چاہنے والا تجھے چاہ تو سکتا تھا مگر
میرے جیسا دلِ بیتاب کہاں سے لاتا

ہو گئى خشک مری ذات کی ہر ایک ندی
آنکھ کی جھیل میں کچھ آب کہاں سےلاتا

ہاتھ خالی تھے ترے واسطے میں شہزادی!
ریشم و اطلس و کم خواب کہاں سے لاتا

بانٹ کر پیاس پرندوں کو کیا ہے رخصت
پانیوں سے بھرے تالاب کہاں سے لاتا

ساتھ چلتےجومرےشہرِپریشاں میں امین
اپنے کھوئے ہوئے احباب کہاں سے لاتا

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم