MOJ E SUKHAN

یہ ویراں شہر میرا کس لیے ہے

یہ ویراں شہر میرا کس لیے ہے
لگاۓ خوف ڈیرا کس لیے ہے

یہی تھا پیڑ کٹنے کا سبب کیا
کہ وہ اتنا گھنیرا کس لیے ہے

بھنور میں آ گیا میرا سفینہ
سمندر شور تیرا کس لیے ہے

اگر یہ شہر ہے شہرِ اماں تو
چھپا ہر سو لٹیرا کس لیے ہے

میں ہاتھوں پرلیےسورج کھڑاہوں
مرےگھر میں اندھیراکس لیے ہے

یہی میں سوچتا رہتا ہوں اکثر
مجھےسوچوں نےگھیراکس لیےہے

امین آنگن میں اپنے عمر گزری
دُکھوں کا ہی بسیرا کس لیے ہے

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم