MOJ E SUKHAN

رنگوں کی کہانی تھی خوشبو کی روانی تھی

رنگوں کی کہانی تھی خوشبو کی روانی تھی
ہونٹوں پہ زمانے کے جب اپنی کہانی تھی

آنکھوں میں ہمارے بھی پوشیدہ کہانی تھی
اک بات تھی جو تم کو ہم سے بھی چھپانی تھی

تو نے ہی مجھے توڑا تو نے ہی مجھے جوڑا
جو درد ملے مجھ کو تیری ہی نشانی تھی

یاد آتے ہیں وہ لمحے ساون کے مہینے میں
جب دل کی کہانی میں اشکوں کی روانی تھی

تم نے جو کیے وعدے وہ وعدے وفا کب تھے
بے فیض فسانے میں یہ جھوٹی کہانی تھی

آنکھوں میں کٹی راتیں خود سے بھی ہوئیں باتیں
ہم کہہ نہ سکے تجھ سے جو بات سنانی تھی

بچپن کے سبھی قصے بچپن کی سبھی باتیں
پل پھر کے فسانے میں صدیوں کی کہانی تھی

جب ساتھ تمہارا تھا تم سرو سمن سے تھے
آنگن میں ہمارے بھی اک رات کی رانی تھی

دشمن تھیں ہوائیں بھی روٹھی تھی فضائیں بھی
جذبوں میں مگر اپنے چاہت کی روانی تھی

اس وقت کہاں تھے تم جب مجھ پہ برستی یاں
تنہائی کی چادر تھی انگشت بیانی تھی

تاروں کی محبت میں مہتاب نہیں نکلا
یادوں کی مگر ہم کو محفل تو سجانی تھی

اک وقت یہ آیا ہے کچھ کہہ ہی نہیں پائے
اک وقت تھا لفظوں میں کیا شعلہ بیانی تھی

وہ وقت بھی آیا جب خاموش رہے ہم تم
وہ وقت بھی آیا جب جاں اپنی بچانی تھی

کچھ وقت لگا گرچہ اقبال نے جب جانا
نغمے تری خاطر تھے تو ہی مری رانی تھی

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم