Kaam Aayee They Ik Roz Museebat Main Kissi Kay
غزل
کام آئے تھے اک روز مصیبت میں کسی کی
رکھے گئے پھر ہم بھی تجارت میں کسی کی
ہم نے تو محبت کو محبت ہی لکھا تھا
لکھی تھی مگر ہم نے یہ قسمت میں کسی کی
اس دل نے کشیدے ہیں فقط رنج و الم ہی
صدمات ملے ہم کو تو صحبت میں کسی کی
ہنستے ہوئے آنکھوں سے چھلکتے رہے آنسو
ایسا بھی ہوا معرکہ چاہت میں کسی کی
میں ہوں مری تقلید میں برسات کی بوندیں
ہوتی ہیں زمیں بوس عقیدت میں کسی کی
ہے رنج و الم آہ مری دائمی دولت
جو کام نہی آئی ضرورت میں کسی کی
کہنے کو یہ شاہین ہے اک جوگ کی داسی
جو دل کو ملا صرف عداوت میں کسی کی
شاہین مغل
Shaheen Mughal