ہوا میرے آنگن سے روتی گئی
خوشی درد کا بیج بوتی گئی ۔
میں ٹھہروں زرا اس کا اصرار تھا
مگر پھر بہت دیر ہوتی گئی
سفر تھا ستاروں کے ہمراہ جب
میں گھر کے چراغوں کو کھوتی گئی
حقائق وہ بے ساختہ کہہ گیا
میں خوابوں سے محروم ہوتی گئی
وہ منظر قیامت کے تھے شہر میں
جو دیکھے سو بینائی کھوتی گئی
وہ رستہ مجھے کیا دکھائی دیا
میں اشکوں سے دامن بھگوتی گئی
پرانے شجر کٹ کے گرنے لگے
نئی روشنی دھوپ بوتی گئی
اداسی چمن سے گزرتے ہوئے
مرے دل کے آنگن میں سوتی گئی
پرانے در و بام کی گفتگو
میں سنتی رہی شام ہوتی گئی
ریحانہ احسان