وہم ہے یہ آپ کا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
جھوٹ کے اس عہد میں عہدِ وفا کچھ بھی نہیں
اپنے جب اعمال کو دیکھا تو مجھ کو یوں لگا
ہم کو جتنی مل رہی ہے وہ سزا کچھ بھی نہیں
عمر بھر رونے سے جتنی سرخ ہیں آنکھیں مری
آپ کے ہاتھوں کا یہ رنگِ حنا کچھ بھی نہیں
ایک لمحے کو اٹھایا رخ سے آنچل آپ نے
یہ عطا ہے آپ کی تو یہ عطا کچھ بھی نہیں
عمر بھر خود اپنے اوپر ہم نے رکھی ہے نظر
آئینے سے کیوں ڈریں پھر آئینہ کچھ بھی نہیں
زندگی بھر ہم رہے ہیں جس خمارِ حسن میں
اس کے آگے یہ نظارے یہ فضا کچھ بھی نہیں
ایک کربِ مستقل میں مبتلا ہو آدمی
در حقیقت زندگی اس کے سوا کچھ بھی نہیں
ظالموں سے اہلِ مقتل بس یہی کہتے رہے
سچ تو یہ ہے سچ کی خاطر یہ سزا کچھ بھی نہیں
صرف شوقِ جستجو میں آپ سے پوچھے سوال
اس سے بڑھ کر اے خدا میری خطا کچھ بھی نہیں
فیاض علی فیاض