MOJ E SUKHAN

عجیب رنگوں کے نقشے یہ کیا بنا دیے ہیں

عجیب رنگوں کے نقشے یہ کیا بنا دیے ہیں
خمیر ایک تھا چہرے جدا بنا دیے ہیں

یہ بھوکے پیاس کے مارے یہ بے لباس بدن
نصیب لوگوں کے عجلت میں کیا بنا دیے ہیں

زمیں پہ اپنا خلیفہ بنا کے بھیجا ہمیں
ہمی سے کیوں بھلا خواجہ سرا بنا دیے ہیں

جبیں کہاں پہ دھریں کچھ سمجھ نہیں آتا
خدا پرستوں نے اتنے خدا بنا دیے ہیں

فساد و شر نہ اٹھائیں تو کیا کریں یہ خدا
جب ایک دوجے سے سارے خفا بنا دیے ہیں

غزل کے شعر نہیں ہیں جنوں کے شکوے ہیں
ہمارے دل نے کہا ہے بنا ! بنا دیے ہیں

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم