MOJ E SUKHAN

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے

مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے
مشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے

وہاں جو لوگ کھلاڑی ہیں وہ یہاں شاعر
یہاں جو صدر نشیں ہے وہاں ہے امپائر

وہاں پہ شرط کہ ہو زور بازوئے محمود
یہاں یہ قید کہ ہو لحن حضرت داؤد

وہاں تمدن مشرق کی موت کا غم ہے
یہاں ادب کے جنازہ پہ شور ماتم ہے

وہاں ریاض مسلسل سے کام چلتا ہے
یہاں گلے کے سہارے کلام چلتا ہے

وہاں بھی کھیل میں نوبال ہو تو فاؤل ہے
یہاں بھی شعر میں اہمال ہو تو فاؤل ہے

وہاں ہے ایل بی ڈبلیو یہاں یہ چکر ہے
کہ عندلیب مؤنث ہے یا مذکر ہے

وہاں بھی صرف مقدر کا کھیل ہوتا ہے
جو ان لکی ہے یہاں بھی وہ فیل ہوتا ہے

وہاں ہے ایک ہی کپتان پوری ٹیم کی جان
یہاں ہر ایک پلیئر بجائے خود کپتان

یہاں کچھ ایسے بھی کپتان پائے جاتے ہیں
جو رن بناتے نہیں ہٹ لگائے جاتے ہیں

وہاں جو لوگ اناڑی ہیں وقت کاٹتے ہیں
یہاں بھی کچھ متشاعر دماغ چاٹتے ہیں

ہوا کرے اگر اسکور اس کا زیرو ہے
یہاں جو شخص پھسڈی ہے وہ بھی ہیرو ہے

نگاہ جن کی پہنچتی ہے حشو و ایطا پر
بنا دیا ہے یہاں ان کو بیک اسٹاپر

ادب نواز پہ شاؤٹ یہاں بھی ہوتے ہیں
یہ بد نصیب رن آؤٹ یہاں بھی ہوتے ہیں

حنیفؔ بھی کوئی بوگس کرکٹر تو نہیں
مگر اثرؔ سے زیادہ فری ہٹر تو نہیں

بجا ہے فضلؔ کے سکسر پہ مرحبا کہنا
مگر فراقؔ کی باؤنڈری کا کیا کہنا

مرے خیال کو اہل نظر کریں گے کیچ
مشاعرہ بھی ہے اک طرح کا کرکٹ میچ

دلاور فگار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم