MOJ E SUKHAN

جس کی خواہش تھی ضرورت سے زیادہ اوڑھے

جس کی خواہش تھی ضرورت سے زیادہ اوڑھے
آج پھرتا ہے محبت کو وہ آدھا اوڑھے

اس نے پہنے جو سبھی رنگ وہ خوش بخت ہوئے
اس پہ جچتی ہے سیہ شال جو سادہ اوڑھے

ہم کھلے دل سے ملے تنگ نظر لوگوں سے
ہم نے پھر خواب بھی آنکھوں پہ کشادہ اوڑھے

سارے جھوٹے ہیں منافق ہیں ریا کار ہیں یہ
جو بھی سچائی کا پھرتے ہیں لبادہ اوڑھے

مسکراتے ہوئے رستوں نے دعائیں دی ہیں
گھر سے نکلے ہیں جو منزل کا ارادہ اوڑھے

ہم نے بھی سیکھ لیا دنیا میں جینا فوزی
خوش رہا صبر کا وہ شخص بھی وعدہ اوڑھے

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم