MOJ E SUKHAN

ہم گئے ہیں جان سے کن کے لیے

ہم گئے ہیں جان سے کن کے لیے
روتے ہیں دن رات اب جن کے لیے

تھی ضمانت اُن کی رکھیں گے وہ دل
آج ہیں رنجیدہ ضامِن کے لیے

ہم نے تو ہنس کر سہے اِن کے ستم
بے وفا نے بدلے کیوں گِن کے لیے

جاگ کر ہم نے گزاری کالی رات
جاگنا پڑتا ہے اِک دن کے لیے

جس نے ڈالی ہے وطن پر میلی آنکھ
ہم نے بدلے اُن سے گِن گِن کے لیے

ہوتے ہیں تاریخ کے یہ مرحلے
جان جب دیتے ہیں محسن کے لیے

کس قدر بھولی ہو تم بھی اے عروج
زندہ ہو اِک شخصِ ساکن کے لیے

شاہدہ عروج خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم