MOJ E SUKHAN

موت کا وقت گزر جائے گا

موت کا وقت گزر جائے گا
یہ بھی سیلاب اتر جائے گا

آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیال
مجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا

کیا خبر تھی مرا خاموش مکاں
اپنی آواز سے ڈر جائے گا

آ گیا ہے جو دکھوں کا موسم
کچھ نہ کچھ تو کہیں دھر جائے گا

جھوٹ بولے گا تو کیا ہے اس میں
کوئی وعدا بھی تو کر جائے گا

اس کے بارے میں بہت سوچتا ہوں
مجھ سے بچھڑا تو کدھر جائے گا

چل نکلنے سے بہت ڈرتا ہوں
کون پھر لوٹ کے گھر جائے گا

فرحت عباس شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم