MOJ E SUKHAN

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاد

خوشبو سا بدن یاد نہ سانسوں کی ہوا یاد
اجڑے ہوئے باغوں کو کہاں باد صبا یاد

آتی ہے پریشانی تو آتا ہے خدا یاد
ورنہ نہیں دنیا میں کوئی تیرے سوا یاد

جو بھولے سے بھولے ہیں مگر تیرے علاوہ
اک بچھڑا ہوا دل ہمیں آتا ہے سدا یاد

میں تو ہوں اب اک عمر سے پچھتاووں کی زد میں
کیا تم کو بھی آتی ہے کبھی اپنی خطا یاد

ممکن ہے بھلا کیسے علاج غم جاناں
جب کوئی دوا یاد نہ ہے کوئی دعا یاد

فرحت عباس شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم