بات ہے اپنی مستند بے حد
یونہی کرتے ہیں سب حسد بے حد
کر کے توصیف آپ اپنی ہم
خود بڑھا لیں گے اپنا قد بے حد
تیری قسمت پہ رشک آتا ہے
نام ہے تیرا خوش عدد بے حد
ہے شمار اپنا فیلسوفوں میں
ہم سے نالاں ہیں بے خرد بے حد
نیک طینت عزیز رکھتے ہیں
نام و ناموسِ ابّ و جد بے حد
راہِ ہستی میں ہے مجھے درکار
میرے خالق تری مدد بے حد
تجھ نگہ نے جو دی مرے دل کو
معتبر ہے وہ اک سند بے حد
لگ رہا ہے اُکھڑتی سانسوں سے
یاد کرنے لگی لحد بے حد
قیسِ دَوراں کے انتخاب کے وقت
نام ہوتے ہیں مسترد بے حد
ہم نے دیکھی یونہی سدا مصروف
یہ گزر گاہِ نیک و بد بے حد
بھا گیا میرے دل کو جو , اُس کے
خوبصورت ہیں خال و خد بے حد
عادِل اُس کو خدا ہدایت دے
یونہی رکھتا ہے مجھ سے کد بے حد
عادِل یزدانی چنیوٹ