MOJ E SUKHAN

آپ مجھ سے بدگماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

آپ مجھ سے بدگماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح
دوسروں پہ مہرباں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

راست بازوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے ہیں آپ
کج روؤں کے ہم زباں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

آشنائے منزلِ دِل سے یہ دُوری کس لیے
ہم جلیسِ گُم رَہاں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

جب طلب دل کو مرے اک آسمانِ نَو کی ہے
آپ میرا آسماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

مسخ کرنے کو حقیقی شکلِ غم پر مستعد
آپ کے یہ ترجماں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

تلخ تر حالات میں بھی چاہنے والے ترے
شیریں لب , شیریں بیاں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

تم ہمیشہ کی طرح ہو کیوں مکینِ قصر و کاخ
اور ہم بے سائباں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

پہلے دن سے کس لیے متروک ٹھہرے اپنے لفظ
آپ کے سِکّے رَواں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

کاسہ لیسوں نے کبھی سوچا نہ سوچیں گے کبھی
بے نمود و بے نشاں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

بے دلی سے کام جتنے بھی کیے تُو نے مِرے
بے نتیجہ , رائگاں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

کچھ تو عادل کو بتائیں اِس تذبذب کا جواز
ہاں کے , نہ کے درمیاں ہیں کیوں ہمیشہ کی طرح

عادِل یزدانی چنیوٹ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم