MOJ E SUKHAN

درد کے سب کام راضی بہ رضا ہو جائیں گے

درد کے سب کام راضی بہ رضا ہو جائیں گے
کیا کرو گے تم اگر ہم بھی خفا ہو جائیں گے

بے رخی سے ہم تری بے آسرا ہو جائیں گے
تیری نظروں میں سما کر کیا سے کیا ہو جائیں گے

ہم تو بزمِ ناز میں انجام سے تھے بے خبر
کیا خبر تھی آپ اتنے بے وفا ہو جائیں گے

کیا تمہاری اک نظر کو بے نیازی چاہئے
یہ دھڑکتے قلب سارے بے صدا ہو جائیں گے

جس گھڑی انساں کا انساں آسرا ہو جائے گا
اے خدا تو ہی بتا ہم کیا سے کیا ہو جائیں گے

یاد رکھ قیصر کہ احکامِ الہی چھوڑ کر
کام دنیا کے بہ اندازِ سزا ہو جائیں گے

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم