MOJ E SUKHAN

عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو

عدو کے تاکنے کو تم ادھر دیکھو ادھر دیکھو
مگر ہم تم کو دیکھے جائیں تم چاہو جدھر دیکھو

لڑائی سے یوں ہی تو روکتے رہتے ہیں ہم تم کو
کہ دل کا بھید کہہ دیتی ہے تم چاہو جدھر دیکھو

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی
دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے
ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

نہ کرنا ترک بیخودؔ محتسب کے ڈر سے مے خواری
کہیں دھبا لگا لینا نہ اپنے نام پر دیکھو

بیخود دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم