کیا مجھ کو دکھائے گی مری عمرِ رواں اور
اس عشق سے بڑھ کر ہے کوئی کربِ زیاں اور
تو بھی تو اکیلی ہے شبِ ہجر تو پھر آ
ایجاد کریں مل کے کوئ طرزِ فغاں اور
آواز اٹھانے کی اجازت تو ہے لیکن
ہر دور میں سچائی کی قیمت ہے یہاں اور
وہ راز کہ رکھوں جسے اِس دل میں چھپا کر
دیکھوں جو اُسے چہرے سے ہوتا ہے عیاں اور
یہ عشق ہے ، بچوں کا اسے کھیل نہ جانو
سر کرنا پڑیں گے ابھی کچھ کوہِ گراں اور
اِک آس ہے جو ٹوٹ کے بھی ٹوٹ نہ پائی
کچھ اور حقیقت ہے گزرتا ہے گماں اور
وہ راحتِ جاں جب بھی مقابل مِرے آئے
سوچوں ہوں میں کچھ اور پہ کہتی ہے زباں اور
حمیرا راحت