MOJ E SUKHAN

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب
پاؤں ٹکتے ہی نہیں اپنے زمیں پر صاحب

خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر بات کے بیچ
ہاں کا دھوکہ ہو ہمیں اس کی نہیں پر صاحب

تخت یاروں کو ہے غم شاہ کی معزولی کا
اور فدا بھی ہیں نئے تخت نشیں پر صاحب

ہم تو اک سانولی صورت ہے جسے چاہتے ہیں
آپ مر جائیں کسی ماہ جبیں پر صاحب

حسن رنگوں کے تصادم سے جلا پاتا ہے
جیسے اک خال کسی روئے حسیں پر صاحب

ہم وہ مجروح زیارت کہ سر محفل بھی
آنکھ رکھتے ہیں اسی پردہ نشیں پر صاحب

حسین مجروح

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم