MOJ E SUKHAN

آنکھوں میں کھبے جائے ہے تصویر لگے ہے

آنکھوں میں کھبے جائے ہے تصویر لگے ہے
اشعار سے جھلکے ہے جواں، میر لگے ہے

سو بار لکھا ہے اسے سو بار پڑھا ہے
پھر بھی وہ کوئی اجنبی تحریر لگے ہے

رکھے ہے نظر اپنی ہی خامی پہ جو ہر پل
تنکا بھی اُسے آنکھ کا شہتیر لگے ہے

جس لقمے میں شامل ہوسِ لقمہ اے تر ہو
وہ حلق پہ رکھی ہوئی شمشیر لگے ہے

مجھ جیسا گنہگار نوازا گیا کیسے
مجھ کو تو کسی اور کی تقدیر لگے ہے

ہوجا اے ہے اکثر یہ زمیں بھی تو مخالف
کیوں زہر تجھے یہ فلکِ پیر لگے ہے

اک عمر گزاری تو ہمیں تب ہُوا احساس
تخریب کے پیچھے کوئی تعمیر لگے ہے

ہے مرغِ چمن رقص میں گم اپنی ہی دُھن میں
ہم رقص بھی اب پاؤں کی زنجیر لگے ہے

آنکھوں میں اُتر آتا ہے اک آئینہ چہرہ
مجھ کو وہ مرے خواب کی تعبیر لگے ہے

کیوں ہو کسی رانجھا کی مجھے ہیر سے مطلب
مجھ کو تو مری اپنی غزل ہیر لگے ہے

اک عمر خیالوں میں رکھا جس کو بسائے
کل پرس سے نکلی ہے تو دلگیر لگے ہے

اُس شوخ دہن کے لب و لہجے کا فسوں ہے
برچھی کبھی بھالا جو کبھی تیر لگے ہے

غالب کی قلمرو کا غزل نام ہے خسروؔ
مجھ کو تو سخن میر کی جاگیر لگے ہے
(فیروز ناطق خسرو)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم