MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اجنبی عشق میں ہو جاتا ہے اکثر اپنا

غزل   اجنبی عشق میں ہو جاتا ہے اکثر اپنا تجھ سے وابستہ ہوا آج مقدّر اپنا آکے پردیس میں یاد آیا وطن گھر اپنا وہ جہاں اپنا محبت کا سمندر اپنا درودیوار مکینوں کو کہاں بھول سکے ہم کو سو کوس سے آتا ہے نظر گھر اپنا کم نصیبی کا زمانہ میں گزار آئی […]

اجنبی عشق میں ہو جاتا ہے اکثر اپنا Read More »

ہجوم میں بھی میں رہی اکیلی پر

غزل ہجوم میں بھی میں رہی اکیلی پر تجھے میں ڈھونڈتی رہی نگر نگر حیات کی یہ رہگزر ہے رہگزر گزر گئی ہماری شب ہوئی سحر پھر انجمن میں لگ سکا نہ میرا دل کی اِختیار میں نے پھر الگ ڈگر تلاش میں تری کہاں کہاں گئی عجب طرح خیال نے کیا سفر ستارہ وار

ہجوم میں بھی میں رہی اکیلی پر Read More »

نام آئے مِرا ہونٹوں پہ تِرے نام کے ساتھ

غزل   نام آئے مِرا ہونٹوں پہ تِرے نام کے ساتھ بیتے ہر دن مرا جو تِری حسیں شام کے ساتھ کب تغّیر کو کبھی روک سکی ہے دنیا وقت چلتا ہی رہا گردشِ ایام کے ساتھ دوستوں سے میں گلے مل لوں مری خواہش ہے وقت کٹ جائے مِرا یوں بڑے آرام کے ساتھ

نام آئے مِرا ہونٹوں پہ تِرے نام کے ساتھ Read More »

گیت پہلے سے کہاں اب وہ رہے ساز کہاں

غزل گیت پہلے سے کہاں اب وہ رہے ساز کہاں ہجر میں تیرے مری زیست میں وہ ناز کہاں کس طرح آکے یہاں جرأتِ اِظہار کروں تابِ گویائی کہاں نُدرتِ الفاظ کہاں کھوگئے جانے کہاں سارے فسانے میرے زندگی کے وہ نہاں گُم شدہ سے راز کہاں یہ محبت کی ہے رنگت تیرے چہرے پر

گیت پہلے سے کہاں اب وہ رہے ساز کہاں Read More »

جل گیا دل پگھلتا رہا آفتاب

غزل جل گیا دل پگھلتا رہا آفتاب کشمکش میں ڈھلا دن چڑھا ماہتاب شُکر ہے ربّ نے دیں نعمتیں بے حساب ویسے تو زندگی گزری ہے لاجواب وقت چلتا رہا رُک نہ پایا کہیں دے نہ پائی مجھے عمرِ رفتہ حساب اِک خطا کا سزاوار ٹھہرا مگر آیا زیرِ اثر اور زیرِ عتاب مِل نہ

جل گیا دل پگھلتا رہا آفتاب Read More »

ہتھیلیوں پہ یوں رنگِ حنا نکھر آیا

غزل ہتھیلیوں پہ یوں رنگِ حنا نکھر آیا کہ جیسے اُلفتوں کے رنگ کا اثر آیا ترا ہی تذکرہ اب اس قدر ہے ہر جانب کتابِ زیست میں اکثر مجھے نظر آیا ہر اِک حیات کی تکمیل موت ہوتی ہے انوکھا نکتہ مرے ذہن میں اُبھر آیا مصیبتوں نے سنوارا ، نکھارا ہے مجھ کو

ہتھیلیوں پہ یوں رنگِ حنا نکھر آیا Read More »

وہاں اب صبح تُو نے آکے پھیلایا سویرا

غزل وہاں اب صبح تُو نے آکے پھیلایا سویرا جہاں چھایا ہوا تھا بس اندھیرا ہی اندھیرا فلک تکتے ہوئے تارے نظر میں آئے ایسے کیا میں نے ستاروں پر بہت دن تک بسیرا سیاہی دُور کرنے کی جو ہمت کی ہے میں نے مرے اس حوصلے سے چارسُو پھیلا اُجالا ہوئی خوابوں کی ہے

وہاں اب صبح تُو نے آکے پھیلایا سویرا Read More »

پھر خزاں گزری اب بہار ہے کیا؟

غزل پھر خزاں گزری اب بہار ہے کیا؟ زندگی میں پھر انتشار ہے کیا؟ چھائی ہیں پھر سُہانی بدلیاں سی تو محبت کا یہ خمار ہے کیا؟ میرے ہر غم کو ناپنے والے میرے غم کا کوئی شمار ہے کیا؟ جب بھی ملتے ہو ، دل دُکھاتے ہو دل میں اب بھی بھرا غبار ہے

پھر خزاں گزری اب بہار ہے کیا؟ Read More »

بادلوں میں چھپا چاند آج شب نکلا

غزل بادلوں میں چھپا چاند آج شب نکلا آسماں پر نظارہ کچھ عجب نکلا روشنی چھا گئی تیرے چمکنے سے تُو فلک پر ستارہ بن کے اب نکلا کھوگیا پھر کہاں تُو آسمانوں میں ڈھونڈنے پھر تجھے اب کوئی کب نکلا خامشی اور سنّاٹے بسے ہر سُو کھونا پانا تجھے چکّر عجب نکلا تیری خاطر

بادلوں میں چھپا چاند آج شب نکلا Read More »

مجھ سے تو حال رفتہ سنایا نہیں گیا

غزل مجھ سے تو حال رفتہ سنایا نہیں گیا دُکھڑا کسی کے سامنے لایا نہیں گیا میں انتظار میں رہی شوقِ کلام کے محفل میں تیری مجھ کو بُلایا نہیں گیا حاصل کیا جو کچھ بھی وہ کسبِ حلال سے مجھ سے حرام نوٹ کمایا نہیں گیا جو کام بھی کیا وہ سلیقے سے ہی

مجھ سے تو حال رفتہ سنایا نہیں گیا Read More »