مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
کتابیں
بچوں کا ادب
مضامین
انٹرویو
آڈیو
تعارف
ویڈیوز

اردو شعراء

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

عزیز حامد مدنی

  • کراچی

عزیز حامد مدنی 15 جون 1922ء کو رائے پور، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ عزیز حامد مدنی بنیادی طور پر روایتی غزلیہ لہجے میں چھپے ھوئے تازہ عشقیہ المیات اور واردات کے شاعر تھے۔ ان کی شاعرانہ افسردگی اور اداسی میں ناسٹلجیائی تہذیب کا گم گشتہ رومانس چھپا ہوا ہے۔

ان کے والد محمد حامد صدیقی کے استاد مولانا شبلی نعمانی تھے اور مولانا محمد علی جوہر ان کے ہم مکتبوں میں شامل تھے۔ عزیز حامد مدنی 1948ء میں نقل مکانی کرکے کراچی آ گئے اور کمشنر جی۔ اے مدنی کے ساتھ رہے۔ سابق شیخ الجامعہ، جامعہ کراچی ظفر سعید سیفی ان کے بھانجے ہیں۔ انگریزی میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ ریڈیو پاکستان کے انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ زیادہ تر وقت ملازمت کے سلسلے میں کراچی اور پشاور میں گزرا اور بحیثیت رزیڈنٹ ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان کے عہدے سے ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ وہ تا حیات مجرد رہے۔ ریٹائر ہونے کے بعد مدنی صاحب گلشن اقبال، کراچی میں سکونت پزیر ہوئے۔عزیز حامد مدنی کی وفات 23 اپریل 1991ء، کراچی، پاکستان میں ہوئی اور لیاقت آباد کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

 

حالیہ شاعری

کچھ تو کُھلے یہ درد سا کیا ہے جگر کے پاس

نارسائی کی حدیں جرمِ وفا بھول گیا

ہوا آشفتہ سر رکھتی ہے ہم آشفتہ حالوں کو

سکوتِ شب کو غزل خواں کہو کہ نیند آئے

بیتِ تازہ کی ہوا ، کوئے حریفاں کی ہوا

صورتِ زنجیر موجِ خوں میں اک آہنگ ہے

خبر کے دور میں سرِ نہاں کی فکر میں ہوں

جویانِ تازہ کاریِ گفتار کچھ کہو

آج کی رات

اُتر کے ساتھ ہی آئی ہے اُس کے روحِ خرد

اقتباس از نظم ’’زلف کی رات‘‘

خرام

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem