MOJ E SUKHAN

کلدیپ گوہر

کلدیپ گوہر کا اصل نام  کلدیپ نرائن تھا 1929 لاہور میں پیدا ہوئے تقسیم ہند کے بعد ہندوستان دہلی میں آباد ہوگئے ایک شعری مجموعہ ریکارڈ پر موجود ہے عمدہ غزل کے شاعر تھے وہیں انتقال ہوا

ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف

غزل ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف ہیں مذہبی پرخاش کے انجام سے واقف تا عمر رہے ہیں جو مئے و جام سے واقف ہو پائے نہ وہ گردش ایام سے واقف تنویر سحر جن کی نگاہوں میں بسی ہو کب ہوتے ہیں وہ تیرگئ شام سے واقف منزل پہ پہنچنا ہمیں […]

ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف Read More »

سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے

غزل سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے بے قراری سی بے قراری ہے آسماں پر ستارے ہیں روشن کیسی قدرت کی دست کاری ہے پیاس نے آج کر دیا ثابت ذائقہ آنسوؤں کا کھاری ہے آپ جس کو نہ سن سکے اب تک بس وہی داستاں ہماری ہے رات کے بعد صبح کا

سر بھی بھاری ہے دل بھی بھاری ہے Read More »

ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا

غزل ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا رواداری کی راہوں سے بھٹک جانا نہیں آتا دیا امید کا رہبر بنا لیتا ہوں منزل تک مجھے رستے کی تاریکی سے گھبرانا نہیں آتا گلستان محبت میں کچھ ایسے پھول کھلتے ہیں جنہیں موسم بدلنے پر بھی مرجھانا نہیں آتا جہاں تک ہو سکے

ہمیں اپنے تو کیا غیروں کو ٹھکرانا نہیں آتا Read More »