مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
بچوں کا ادب
انٹرویو
آڈیو
کتابیں
مضامین
تعارف
ویڈیوز

شاعری کے زمرے

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

آبرو شاہ مبارک

شاہ مبارک آبرو (پیدائش: 1683ء – وفات: 1733ء) گوالیار کے مضافات میں 1095ھ کوپیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام نجم الدین تھا اور آبرو تخلص استعمال کرتے تھے۔ عالم شباب میں دلی آئے۔ شاہی ملازمت سے وابستہ رہے مگر عہد محمد شاہی میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قلندری اور درویشی اختیار کر لی۔ ان کی ابتدائی شاعری محمد شاہی دور کی آئینہ دار ہے۔ چونکہ مزاجاً وہ حسن پرست تھے۔ لہٰذا خوبصورت چیزوں سے انہیں دلچسپی تھی۔ ایہام گوئی کے باوجود ان کی شاعری میں خلوص، سچائی اور سادگی سے اظہار جذبات کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔

 

حالیہ شاعری

کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیں

بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحری

ممنون گیسو و لب و رخسار کون ہے

حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھا

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میں

ہر ایک آنکھ کو ذوق جمال دے یا رب

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں

یاد آئی وہ زلف پریشاں

رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگا

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے

یہ سبزہ اور یہ آب رواں اور ابر یہ گہرا

دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت – Dil ne pakri hai yar ki soorat

کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت koyal ne akay kook sunai basant rut

اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ Aur Wa’az ke sath mil le shaikh

بہار آئی گلی کی طرح دل کھول – Bahar ai gali ki tarhan dil khol

مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل – Magar tum se hua hai ashna dil

جلتے تھے تم کوں دیکھ کے غیر انجمن میں ہم – Jalte thy tumko dekh ke gher anjuman mai hum

دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم – Dilli ke beech haye akele marenge hum

ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے

اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا – Agar ankho se ankho ko milaoge tou kya hoga

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem