آصف الدولہ
- لکھنؤ
آصف الدولہ کا نام محمد یحیٰ مرزا زمانی تھا۔ وہ 1748ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام شہزادوں کی طرح کیا گیا۔ اور انہوں نے اردو فارسی میں اچھی مہارت کے ساتھ دوسرے فنون میں بھی دستگاہ حاصل کر لی۔ آصف الدولہ صاحب ذ وق تھے اور شاعری کا شوق رکھتے تھے۔ انہوں نے اردو کے علاوہ ایک فارسی دیوان بھی مرتب کیا۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے تعلقات اپنی ماں سے کشیدہ ہو گئے تھے۔ ان کے والد شجاع الدولہ کو بکسر کی جنگ کے بعد ایک کثیر رقم انگریزوں کو بطور تاوان جنگ ادا کرنی پڑی تھی۔ اس وقت ان کی ماں نے زبردست ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تن کے زیورات بھی شوہر کے حوالے کر دئے تھے۔ ان کی اس قربانی سے شجاع الدولہ اتنے متاثر ہوئے تھے کہ بعد میں انھوں نے اپنی تمام نجی دولت بیوی کی تحویل میں دے دی تھی۔ باپ کی موت کے بعد جب آصف الدولہ نے اپنا ترکہ طلب کیا تو ماں نے دینے سے انکار کر دیا۔ آصف الدولہ کی ماں کے مزاج میں رعونت اور حکمرانی تھی اور آصف الدولہ کسی کے تابع رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنا دار الخلافہ لکھنؤ منتقل کر دیا۔ لکھنؤ آ کر انہوں نے سب سے پہلے شہر کی تعمیر پر توجہ کی۔ اور لکھنؤ میں دن رات نئی نئی عمارتیں کھڑی ہونے لگیں۔ تعمیرات کی رفتار اسی زمانہ میں پھیلے قحط نے اور بھی تیز کر دی اور یہ تعمیراتی کام راحت رسانی کا بھی ایک کام بن گیا جس نے ہزاروں لوگوں کو روزگار دیا۔ بہت سے شرفاء قحط کی وجہ سے محنت مزدوری پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان کی پردہ داری کے لئے کچھ عمارتیں صرف رات کے وقت تعمیر کی جاتی تھیں۔ ان کے عہد میں کہاوت تھی "جسے نہ دے مولا، اس کو دیں آصف الدولہ”۔ ان کا اسی زمانہ کا شعر ہے "جہاں میں جہاں تک جگہ پائیے*عمارت بناتے چلے جائیے””
ان ہی کے عہد میں مرزا محمد رفیع سودا، میر تقی میر اور میر سوز جیسے اہل کمال لکھنؤ آئے۔ سوز کو انہوں نے شاعری میں اپنا استاد بنایا۔ آصف الدولہ نے جس ثقافتی خود مختاری کی بنیاد رکھی اس پر نئی اردو زبان کی عمارت تعمیر ہوئی۔ اردو شاعری محزونی اور درد مندی کے ماتم کدہ سے نکل کر شوخی اور رنگینی کی طرف مائل ہوئی جس نے بالآخر دبستان لکھنؤ کی شکل اختیار کی۔ آصف الدولہ کے عہد تک اردو شاعری بنیادی طور پر غزل یا قصیدہ کی شاعری تھی۔ ان کے عہد میں مثنوی اور مرثیہ کی طرف خاص توجہ دی گئی۔ میر حسن کی سحر البیان سمیت اردو کی بہترین مثنویاں ان کے ہی عہد میں لکھی گئیں۔ ساتھ ہی مرثیہ نگاری اور مرثیہ خوانی کی ایسی فضا تیار ہوئی جس نے میر انیس اور مرزا دبیر جیسے بے مثل مرثیہ نگار پیدا کئے۔ آصف الدولہ کو ایک فیاض اور دریا دل حکمراں، فنون کے قدر دان اور سرپرست، عظیم الشان عمارتوں کے معمار اور ہندستان کی گنگا جمنی تہذہب کے علمبردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔