مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
بچوں کا ادب
انٹرویو
آڈیو
کتابیں
مضامین
تعارف
ویڈیوز

شاعری کے زمرے

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

افسر صدیقی امروہوی

  • کراچی

افسر صدیقی امروہوی 3 رجب، 1314ھ بمطابق 9 دسمبر، 1896ء بروز بدھ کو امروہہ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے فارسی، سندھی، انگریزی اور پنجابی زبانیں حسبِ ضرورت جانتے تھے۔ وہ شاعری میں مضطر خیرآبادی اور شوق قدوائی لکھنوی کے شاگرد تھے۔ 1927ء میں کراچی، پاکستان منتقل ہو گئے اور تا عمر اسی شہر میں بسر کی۔ 1962ء میں انجمن ترقی اردو پاکستان سے وابستہ ہوئے اور قلمی کتابوں کی تفصیلی فہرست کی تیاری پر معمور ہوئے۔[4] انہوں نے 1935ء کے لگ بھگ کراچی سے ماہنامہ تنویر جاری کیا جس نے کئی موضوعات پر خاص نمبر شائع کیے افسر صدیقی امروہوی 9 فروری، 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

 

 

 

حالیہ شاعری

تجلی تم سے ممکن ہو تو کاشانہ میں رکھ دینا

اب اپنی جفا یاد نہ عاشق کی وفا یاد

رہا کرتا ہے اکثر تذکرہ بربادئی دل کا

شکستِ خاطرِ عاشق میں ہے رنگ ان کی محفل کا

یہ نہ پوچھو کس طرح حاصل ہوا کیوں کر ملا

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem