مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
بچوں کا ادب
انٹرویو
آڈیو
کتابیں
مضامین
تعارف
ویڈیوز

شاعری کے زمرے

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

باصر کاظمی

  • لاہور

باصر سلطان کاظمی اپنے منفرد انداز میں شعر و سخن کہتے ہیں۔ گوجرانوالہ کے ایک سینما ہال میں مشاعرہ کے دوران جوش ملیح آبادی، احسان دانش، قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی جیسے بڑے نام موجود تھے تو باصر سلطان کاظمی کو ناصر کاظمی نے دور کی نشست سے اٹھاکر اپنے پاس بلا لیااور دور جانے سے منع کیا۔ باصر سلطان کاظمی سمجھے کہ شاید بابا کو بٹوے سے کسی شے کی ضرورت ہے لیکن اگلے ہی لمحے انہیں ناظمِ مشاعرہ نے آواز دے کر شعر کہنے کے لیے بلا لیا۔ ناصر کاظمی نے باصر سلطان کاظمی کو گہرے سمندر میں دھکیل کرتیرنے پر مجبور کیا۔ باصر سلطان کاظمی اس معاملے میں کامیاب رہے اور بحرِ سخن میں ایک ماہر شناور بن کر ابھرے۔ متعدد برسوں تک لاہور اور مانچسٹر میں انگریزی ادب پڑھاتے رہے ہیں۔ کبھی کبھار انگریزی میں شاعری کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر اردو ادب میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ا ن کے ادبی فن پاروں میں ’ ’موجِ خیال،چمن کوئی بھی ہو، ہوائے طرب اور چونسٹھ کھانے چونسٹھ نظمیں “ شامل ہیں۔ ان کی غزلیات کو محترمہ ’دیب جا نی چتر جی ‘نے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ انہیں ادب میں ’ممبر آف آرڈ رآف برٹش ایمپائر “ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کایہ شعر انگریزی ترجمہ کی شکل میں 2008میں ایک پتھر پر کندہ کر کے ’مکینزے اسکوائر سلوف، انگلستان‘ میں نصب کیا گیا ہے

 

حالیہ شاعری

بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف

ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے

کر لیا دن میں کام آٹھ سے پانچ

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ

تھا جو کبھی اک شوق فضول

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem