مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
کتابیں
بچوں کا ادب
مضامین
انٹرویو
آڈیو
تعارف
ویڈیوز

اردو شعراء

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

حشام سید

  • کراچی

حشام احمد سید جو حشام سید کے نام سے دنیائے ادب میں پہچانے جاتے ہیں حشام سید 8 دسمبر 1950 کو پیدا ہوئے حشام احمد سید بن عبدالجبار سید  پاکستانی نژاد کنیڈین شہری ہیں آج کل کنیڈا میں ہی مقیم ہیں !
تعلیم و تجربے کے اعتبار سے انجینئرنگ اور بزنس منجمنٹ، انڈسٹریل منجمنٹ، پراجیکٹ منجمنٹ اور بینکنگ سے نصف صدی سے زیادہ عرصہ متعلق رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کا دورہ کر چکے ہیں اور پاکستان کی معروف کمپنیوں اور بینک کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ، امارات او ر سعودی عربیہ میں کئی عالمی طور پہ مشہور کمپنیوں میں کلیدی عہدوں پہ فائز رہے ہیں۔
 پاکستان کے لٹتے، ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے نظریاتی و جغرافیائی حالات کے عینی شاہد ہیں
اُمّت مسلمہ کی تنزلی اور عالمی سطح پر انسانیت اور اخلاقیات کے فقدان سے بھی متفکر رہتے ہیں اور یہی سارے افکار ان کی تحریروں میں نمایاں ہیں۔ادیب اور شاعر ہیں، چودہ کتابیں اردو اور انگریزی زبان میں لکھ چکے ہیں …… انشا پردازی اور رومانیات کے علاوہ انسانی معاشرت، سیاسیات، اقتصادیات، مذاہب عالم، روحانیات، تجارتی اور صنعتی منجمنٹ اور خصوصاً اُمّت مسلمہ کے ماضی و حال کے تاریخی واقعات و بگڑتے ہوئے حالات کے تاثرات ہیں۔جس کا اظہار وہ شاعری کی صورت کرتے ہیں
کراچی، مشرقِ وسطیٰ، امارات سعودی عرب، امریکہ اور کنیڈا کے ادبی حلقوں و مشاعروں میں شرکت ہوتی رہی ہے……عمدہ غزل کہتے ہیں

 

 

 

حالیہ شاعری

بے ضمیروں کو سبق ایسا سکھایا جائے

جی تو کرتا ہے کہ اک حشر اٹھایا جائے

عشق کا جو گناہ کرتے ہیں

کیا بتائیں کیا نہیں سہتے رہے

کہوں کیا میں حسن و جمال کی

بہار آئے خزاں آئے مگر میں بے خبر سا ہوں

چھپے غم کا اظہار ہوتے ہیں آنسو

حسرت رہی کبھی تو وہ بے حجاب آئے

دنیا کا اعتبار بھی مایا دکھائی دے

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem