مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
بچوں کا ادب
انٹرویو
آڈیو
کتابیں
مضامین
تعارف
ویڈیوز

شاعری کے زمرے

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

راغب مراد آبادی

  • کراچی

راغب مراد حسین آبادی کا اصل نام اصغر حسین تھا۔ راغب تخلص کرتے تھے۔27 مارچ 1918ء (13 جمادی الثانی، 1336ھ) میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن مراد آباد تھا۔ہندوستان میں دہلی کالج سے بی اے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی آئے اور ملازمت لیبر ڈیپارٹمنٹ میں کی۔ 1980ء میں اسی ڈپارٹمنٹ میں پبلک ریلیشن آفیسر کی حیثیت سے وظیفہ حسن خدمت پر سبک دوش ہوئے۔راغب مراد آبادی کا شمار ان ممتاز صاحب فکر اساتذہ میں ہوتا ہے جو کلاسیکی روایات کی باریکیوں کا بھر پور ادراک رکھتے ہیں۔ انہیں شاعری کی مختلف اضاف پر عبور حاصل ہے لیکن تاریخ گوئی اور فی البدیہہ میں بے مثل ہیں زبان و بیاں اور فنی رموز کے حوالے سے ان کا کلام سند کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی پہچان ان کی رباعیات ہیں۔ ان کے اب تک 40 مجموعات کلام شائع ہو چکے ہیں۔ جس میں غزلیں، نظمیں، نعت اور پنجابی شاعری شامل ہیں۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے دوران یہ نیت کی کہ ایک ایسا مجموعہ نعت مرتب کیا جائے جس کی ہر نعت کی ردیف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو قرآن حکیم میں سورة محمد موجود ہے اور یہ اسمِ پاک کلمہ کے حصہ ہے۔ جیسے ہی وطن پہنچے اور ارادہ کو عملی شکل دی اور 76 نعتوں پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا۔

 

حالیہ شاعری

ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے

حق بات ہی کہیں گے سر دار دیکھنا

موج نسیم صبح نہ جوش نمو سے تھا

میں ہی بولوں گا نہ تو بولے گا

عجیب انتشار ہے زمیں سے آسمان تک

ناپید جب یہ سِلسِلۂ ہست و بُود تھا

کون کسی کا یار ہے سائیں

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem