بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا
غزل بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا عجیب رنگ میں گزرا ہوا زمانہ تھا بہ فیض خون جگر اب وہ ہو رہا ہے چمن کبھی جو میرے مقدر سے قید خانہ تھا حدود کون و مکاں میں بھی جو سما نہ سکا مری حیات کا وہ مختصر فسانہ تھا نظر میں دیر و […]
بہار تھی نہ چمن تھا نہ آشیانہ تھا Read More »