صائمہ زیدی
- ہری پور ہزارہ
صائمہ زیدی1972 | ہری پور ہزارہ پاکستان میں پیدا ہوئیں آج کل جرمنی میں مقیم ہیں نسائی لہجے کی توانا شاعرہ ہیں
حالیہ شاعری
جشن آوارگی و رنج مسافت کا شریک
غزل جشن آوارگی و رنج مسافت کا شریک دشت کا دشت ہوا ہے مری وحشت کا شریک اب پلٹنے کا سفر ہے تو نظر آتا
آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی
غزل آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی ہم نے پھر عشق کیا اور پشیمانی ملی دل نے کیا پایا محبت میں بجز درد فراق
خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے
غزل خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے تری خبر مجھے ابر رسا سے ملتی رہے تری کشش سے نہ نکلے کبھی زمین دل تری
یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں
غزل یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں کہ جھومتا چلا جاتا ہے کیف ہجر میں دل جمیل چہرے پہ آنکھوں کے نرم
ہجر آثار تھا اک شہر تہ دل نہ رہا
غزل ہجر آثار تھا اک شہر تہ دل نہ رہا آ گئے تم تو کوئی چاہ کے قابل نہ رہا وقت کی کونسی جہتوں میں
صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے
غزل صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے ہم لوگ ترے کنج فسانہ میں نہیں تھے دل خود سے جدا ہو کے انہیں
موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا
غزل موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا آنکھ میں کچھ تو ہے ٹھہرے ہوئے پانی جیسا زرد پڑتے ہوئے پھولوں میں دھنک کی ترتیب زندگی
طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے
غزل طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے ابھی سے کیا کہیں زر خانۂ دل میں کہاں کیا ہے تمہاری کہکشائیں
اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد
غزل اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد چاند کی دید کیا کریں رویت کہکشاں کے بعد بند قبائے آرزو کھولیے کس
چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی
غزل چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی میں تیرے ہم راہ باغ جاں سے گزر رہی تھی طلوع ہو کر تری جبیں