MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

صبیح رحمانی

خوش گلو و خوش آہنگ نعت خواں، نعت گو، ناقد اور محقق سید صبیح الدین صبیح رحمانی 27 جون 1965 / ۲۸ صفر ۱۳۸۵ بروز اتوار کراچی میں سید اسحاق الدین کے گھر پیدا ہوئے ۔ لکھنا شروع کیا تو قلمی نام صبیح رحمانی اختیار کیا ۔ ڈاکٹر شہزاد احمد آپ کے بارے لکھتے ہیں۔

صبیح رحمانی نعت گوئی کے دبستان میں وہ خوش نصیب شاعر ہیں کہ جن کی کہی نعتوں کو اُن کے سامنے ہی شہرتِ دوام حاصل ہو چکی ہے۔ ان کے نعت کہنے کا انداز اور نعت پڑھنے کا سلیقہ دونوں سننے والے کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ نعت کہنے کی حقیقی روح سے واقف ہیں۔ ان کے قلب کی دھڑکنیں جب شعری جامے میں ڈھل کر سماعت گوش ہوتی ہیں تو قاری کے قلوب و اذہان میں بھی ہلچل سی مچ جاتی ہے۔ وہ صرف نعت سنتا ہی نہیں بلکہ نعت کے دوامی کیف و سرور کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔ قلم کی اس دھنک رنگ اور اس قلبی پکار میں صبیح رحمانی کا وجود بھی شامل ہے۔ وہ صرف نعتوں کو قرطاس پر نہیں اُتارتے بلکہ وہ لوگوں کے قلوب میں نعتوں کے سرمائے کو منتقل کردیتے ہیں۔ اب یہ نعت صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ اُمت کی فریاد بن جاتی ہے۔ صبیح رحمانی کی اکثر نعتیں اُمت کی فریاد اور قلبی کیفیات کے طور پر نہ صرف معروف ہیں بلکہ زبان زد خلائق ہیں۔