ضیاء فتح آبادی
- فتح آباد
ضیاء فتح آبادی کا اصل نام مہر لال سونی تھا۔ وہ کپورتھلہ پنجاب میں اپنے ماموں شنکر داس پوری کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ ایک اردو نظم نگار و غزل گو شاعر تھے۔ ان کے والد منشی رام سونی فتح آباد ضلع ترن تارن پنجاب کے رہنے والے تھے اور پیشے کے اعتبار سے ایک مدنی مہندس تھے۔ ضیاء نے اپنی ابتدائی تعلیم جےپور راجستھان کے مہاراجا ہائیاسکول میں حاصل کی اور اس کے بعد 1931 سے لیکر 1935 تک لاہور کے فورمین کرسچن کالج میں پڑھتے ہوئے بی اے (آنرز) (فارسی) اور ایم اے (انگریزی) کی اسناد حاصل کیں اسی دوران میں انکی ملاقات کرشن چندر، ساغر نظامی، جوش ملیح آبادی، میراجی اور ساحر ہوشیارپوری سے ہوئی۔ ان احباب میں آپس میں ایک ایسا رشتہ قایم ہوا جو تمام عمر بخوبی نبھایا گیا۔ انہی دنوں ان کے کالج میں میرا نام کی ایک بنگالی لڑکی بھی پڑھتی تھی کہتے ہیں کہ اس کے حسن کا بہت چرچا تھا۔ اسی کے نام پر ضیاء کے دوست محمد ثناءاللہ ڈار “ساحری” نے اپنا تخلص میراجی رکھا تھا۔ اسی میرا نے ضیاء پر بھی اپنا اثر چھوڑا۔
ضیاء کی اردو شاعری کا سفر انکی والدہ کی نگرانی میں مولوی اصغر علی حیاء جے پوری کی مدد سے 1925 میں شروع ہو گیا تھا اور انکا نام 1929 میں ہی ابھرنے لگا تھا۔ انکو ضیاء تخلص غلام قادر امرتسری نے عطا کیا تھا۔ 1930 میں ضیاء سیماب اکبرآبادی کے شاگرد ہو گئے تھے
ضیاء کا اولین مجموعہ کلام” طلوع ” کے نام سے ساغر نظامی نے 1933 میں میرٹھ شہر سے شائع کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے مزید مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔۔ ضیاء نے ریزرو بینک آف انڈیا میں 1936 سے کام کرنا شروع کیا تھا جہاں سے 1971 میں ریٹائر ہونے کے بعد دہلی میں رہنے لگے تھے۔ضیاء فتح آبادی کا انتقال 19 اگست 1986 کو ایک طویل علالت سہنے کے بعد دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں ہوا۔ آپ نے 73برس کی عمر پائی۔