مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
کتابیں
بچوں کا ادب
مضامین
انٹرویو
آڈیو
تعارف
ویڈیوز

اردو شعراء

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

ظہور نظر

  • ساہیوال

ظہور نظر 27 جولائی، 1923ء کو منٹگمری (ساہیوال)، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م ملک ظہور احمد تھا۔۔باقاعدہ تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ تھا، مگر انھوں نے اپنے طور پر مطالعہ جاری رکھا۔ ہفت روزہ *’’ستلج‘‘* بہاول پور کے مدیر رہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری بھی رہے۔وی شانتا رام کی فلم *’’پڑوسی‘‘* کے مقبول گانے ظہورنظر نے ہی لکھے تھے۔ زندگی کے آخری دنوں میں ریڈیو پاکستان ، ملتان اور ریڈیو پاکستان بہاول پور کے لیے ڈرامے لکھے۔ ظہورنظر کی نظموں کا انگریزی ،روسی، چینی ،ڈچ اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ہفت روزہ ستلج اور ہفت روزہ عدل کے مدیر رہے۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے پلیٹ فارم سے بھی ادب میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا شمار اردو کے اہم نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے مجموعہ کلام بھیگی پلکیں، ریزہ ریزہ اور زنجیر وفا کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے۔ انہوں نے کئی فلموں کے لیے نغمات بھی لکھے جن میں سلمیٰ، صبح کہیں شام کہیں اور پڑوسی کے نام شامل ہیں۔ ان کی نظمیں انگریزی، روسی، چینی، ولندیزی اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں

 

 

 

حالیہ شاعری

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے

عشق میں معرکے بلا کے رہے

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem