مواد پر جائیں۔
moj e sukhan Logo
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون
  • مرکزی صفحہ
  • شاعری
    • شاعری کے زمرے
  • کتابیں
    • نثری کتب
    • موجِ سخن اشاعت گھر
    • شعری کتب
    • تقدیسی ادب
  • مضامین
    • مضامین
    • ناول
    • افسانے
    • تبصرے
  • بچوں کا ادب
    • بچوں کی کہانیاں
    • بچوں کی نظمیں
  • تعارف
  • انٹرویو
  • ویڈیوز
  • آڈیو
  • مالی تعاون

MOJ E SUKHAN

شاعری
کتابیں
بچوں کا ادب
مضامین
انٹرویو
آڈیو
تعارف
ویڈیوز

اردو شعراء

[wpdts-date-time]

Popular Keywords

Categories

No Record Found

View All Results

ظہیر کاشمیری

  • لاہور

ظہیر کاشمیری (پیدائش: 21 اگست،1919ء – وفات: 12 دسمبر، 1994ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ترقی پسند شاعر اور نقاد تھے جن کی شاعری میں برِ صغیر پاک و ہند کے ممتاز گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔ ظہیر نے انسانی آزادی اور عظمت کی جدوجہد کو تاریخی تسلسل میں دیکھا ہے۔ انسانی تاریخی کی ابتدا سے لے کر آج تک انسانی جدوجہد کے فکر و کلام کا خاص موضوع رہی ہے۔ عصری تغیرات اور تاریخی عمل سے نہ صرف یہ کہ ان کا فکر و فن ہمیشہ ہم آہنگ رہا ہے بلکہ انسانی عز و شرف کی ان عظیم تحریکات سے عملی سطح پر بھی وہ وابستہ رہے ہیں۔ ہم عصر تاریخ کا کوئی واقعہ یا آزادی یا انسانی حقوق کی خاطر کی جانے والی کوئی ایسی جہد و پیکار نہیں جس نے ان کے فکر و جذبہ کو تحریک نہ دی ہو اور جسے انہوں نے فن کے سانچے میں نہ ڈھالا ہو۔ ظہیر کاشمیری کا شمار اُردو کے ان چند قد آور شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اُردو شاعری خصوصاً غزل کو نیا رنگ دیا ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔

 

حالیہ شاعری

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا

کس کو ملی تسکین ساحل کس نے سر منجدھار کیا

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا

مضمحل ہونے پہ بھی خود کو جواں رکھتے ہیں ہم

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

تو اگر غیر ہے نزدیک رگ جاں کیوں ہے

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں

وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئے

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے

Facebook
Twitter
Pinterest

ہمیں لکھیں۔

فوری رابطے

رابطہ
ہمارے بارے میں
بانی کے بارے میں
رازداری کی پالیسی
شرائط و ضوابط
moj e sukhan Logo

موجِ سخن پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہمیں فالو کریں

Facebook-f Twitter Youtube Instagram

Copyrights 2022 - 2025 Moje Sukhan powered by Ahsan Taqweem