MOJ E SUKHAN

آئینے کے سوا ترا غم خوار کون ہے

آئینے کے سوا ترا غم خوار کون ہے
اس کے علاوہ کوئی ہے تو یار کون ہے

دشمن تو اپنی چال کو چل کر چلا گیا
لیکن وہ دیکھ وہ پسِ دیوار کون ہے

یہ فیصلہ بھی اٹکا ہوا ہے ابھی تلک
اس زندگی سے برسرِ پیکار کون ہیں

لب پر گلوں کے دیکھی ہے پر کیف تازگی
گلشن میں محوِ سجدہ یہ پرخار کون ہے

جس کو بھی دیکھا وہ ہے مسیحا اے میرے دل
میں کیسے کہہ دوں وہ مرا بیمار کون ہے

رخصت کیا تھا اس کو سرِ شام سب نے جب
جو گیت گا رہا ہے وہ فنکار کون ہے

یہ جاننا تھا اس لیے ہم در بدر ہوئے
مطلب پرست کون وفادار کون ہے

رخسار پر جمی ہوئی یہ دھول دیکھ کر
ہر کوئی پوچھتا ہے یہ سرکار کون ہے

سب کھیل کھیلتے ہیں محبت کا ہاں مگر
اس کھیل میں بھی صاحبِ دستار کون ہے

میں گیت گاتی ہجر کے عالم میں کیوں شمیم
جب جانتی ہوں میرا طرف دار کون ہے

شمیم چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم