آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم
منسوب ہو سکے نہ تری انجمن سے ہم
۔
بیزار آ نہ جائیں غم جان و تن سے ہم
اپنے وطن میں رہ کے بھی ہیں بے وطن سے ہم
۔
یوں بے رخی سے پیش نہ آ اہل دل کے ساتھ
اٹھ کر چلے نہ جائیں تری انجمن سے ہم
۔
یہ سرکشی جنوں نہیں پندار عشق ہے
گزرے ہیں دار سے بھی اسی بانکپن سے ہم
۔
مہر و مہ و نجوم کی مانند روز و شب
ہر جور آسماں پہ رہے خندہ زن سے ہم
۔
ملتے ہیں روز دست صبا سے پیام گل
زنداں میں بھی قریب ہیں اہل چمن سے ہم
۔
شاعرؔ ادب کے محتسبوں کو خبر نہیں
کیا کام لے رہے ہیں تغزل کے فن سے ہم
حمایت علی شاعر