MOJ E SUKHAN

آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہے

غزل

آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہے
وہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہے

اپنے کمرے کو اندھیروں سے بھرا پایا ہے
تیرے بارے میں کبھی غور سے جب سوچا ہے

ہر تمنا کو روایت کی طرح توڑا ہے
تب کہیں جا کے زمانہ مجھے راس آیا ہے

تم کو شکوہ ہے مرے عہد محبت سے مگر
تم نے پانی پہ کوئی لفظ کبھی لکھا ہے

ایسا بچھڑا کہ ملا ہی نہیں پھر اس کا پتہ
ہائے وہ شخص جو اکثر مجھے یاد آتا ہے

کوئی اس شخص کو اپنا نہیں کہتا آزرؔ
اپنے گھر میں بھی وہ غیروں کی طرح رہتا ہے

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم