MOJ E SUKHAN

آخری حل تھا یہی پیش نظر جانے دیا

غزل

آخری حل تھا یہی پیش نظر جانے دیا
ایک گہری سانس لی پھر خواب مر جانے دیا

ساربانا دے گواہی مجھ کو پیاری تھی انا
رکھ لیا زاد سفر اور ہم سفر جانے دیا

حضرت ناصح کی خوش افتادگی پہ داد ہے
خود جدھر سے آئے تھے سب کو ادھر جانے دیا

اس حریم ناز میں یوں بے محابا گفتگو
کچھ بھرم رکھا تو ہوتا تم کو گر جانے دیا

تجھ کو روکا جا رہا تھا روشنی تھی جب تلک
شام کے ڈھلتے سمے سورج کو گھر جانے دیا

آنکھ سپنے دیکھتی تھی آنسوؤں سے کیوں بھری
چاہتی تو پوچھ لیتی میں مگر جانے دیا

دوستا قسمت نہ ہو تو کوششیں بے کار ہیں
صبر کا پیمانہ ہم نے خود ہی بھر جانے دیا

دل مصر تھا بارہا کچھ جانچنے کو رک گئے
آخرش اس نے ہمیں بار دگر جانے دیا

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم