MOJ E SUKHAN

آنکھ ویران ہوگئی صاحب

آنکھ ویران ہوگئی صاحب
آس بے جان ہوگئی صاحب

آپ بن دیکھ کر ہمیں تنہا
راہ حیران ہوگئی صاحب

روح اپنے بدن کے آنگن میں
آج مہمان ہوگئی صاحب

دلکشی کا خمار جب اترا
اپنی پہنچان ہوگئی صاحب

آپ کی آرزو فسانے کا
اب تو عنوان ہوگئی صاحب

جو جوانی تھی آئینے کا وقار
ان پہ قربان ہوگئی صاحب

وہ ہوائیں چلیں کہ زلف مری
پھر پریشان ہوگئی صاحب

ہم نے جس راہ پر قدم رکھا
کتنی سنسان ہوگئی صاحب

اب تو زریاب تھک چکیں آنکھیں
ماند مسکان ہوگئی صاحب

ہاجرہ نور زریاب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم