MOJ E SUKHAN

آنکھ چھوٹی ہے تو کیا خواب بڑے دیکھا کرو

آنکھ چھوٹی ہے تو کیا خواب بڑے دیکھا کرو
چاند روشن ہے مگر اس پہ گڑھے دیکھا کرو

پھول خوش رنگ ہیں خوشبو سے بھرے ہیں پھر بھی
کانٹے پھولوں کے گلے کیسے پڑے دیکھا کرو

انہی کوچوں میں ملا کرتے تھے احباب کبھی
یار سب خواب ہوئے خالی تھڑے دیکھا کرو

وہ جو لوگوں پہ اٹھاتے رہے انگلی برسوں
ان کے گھر بھی تو نئے چاند چڑھے دیکھا کرو

جتنے ان پڑھ تھے کوئی بات نہ سمجھے لیکن
گونگے بہرے ہیں بنے لکھے پڑھے دیکھا کرو

اک وطن پاکے بھی قوم بنیں گے کیسے
کبھی مسلک کبھی کلچر پہ لڑے دیکھا کرو

وہ جو اپنے تھے جنازے پہ نہ آئے کاوش
اور سب غیر ہیں تربت پہ کھڑے دیکھا کرو

کاوش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم