MOJ E SUKHAN

آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خراب

آہوں سے ہوں گے گنبد ہفت آسماں خراب
کس کس مکان کو نہ کرے گا دھواں خراب

مر کر بھی اپنے ساتھ رہیں ہرزہ گردیاں
ہے مشت خاک صورت ریگ رواں خراب

قامت وہ ہے کہ جس سے قیامت ہے آشکار
نقشہ وہ ہے کہ جس سے ہے نقش جہاں خراب

تاب و تواں کو جسم میں یوں ڈھونڈھتی ہے روح
جیسے غبار راہ پس کارواں خراب

ناساز ہو مزاج تو باتوں میں کیا مزا
بیمار کی طرح ہے زبان و دہاں خراب

زیور زوال حسن میں پہنا تو کیا بہار
پتے سنہرے صورت برگ خزاں خراب

قطمیر سے کروں گا سگ یار کا گلا
مرقد کے غار میں جو ہوئیں ہڈیاں خراب

اے بحرؔ تجھ کو ڈھونڈ پھرے شش جہت میں ہم
تیرا پتا کہیں بھی ہے او خانماں خراب

امداد علی بحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم