MOJ E SUKHAN

اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے

غزل

اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہے
یعنی کہ مرے ہونے کا امکان ابھی ہے

اک شعر سے خائف ہوا جاتا ہے زمانہ
اس میز پہ رکھا مرا دیوان ابھی ہے

یہ شور بنے گا کسی بیکس کا ترانہ
دنیا مری زنجیر سے حیران ابھی ہے

یہ ہجر مسلسل ہے مگر وصل کا امکان
میں کہہ تو رہا ہوں نا مری جان ابھی ہے

اس نے مری آواز پہ لبیک پکارا
اس عالم غربت میں اک انسان ابھی ہے

لیلائے سخن تجھ پہ بھی حیرت ہے کہ تیرا
دل درد کے احساس سے انجان ابھی ہے

مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے
وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم