MOJ E SUKHAN

اس طرح زیست کا انداز بدل کر دیکھا

اس طرح زیست کا انداز بدل کر دیکھا
میں نے یخ بستہ ہواؤں میں پگھل کر دیکھا

میرے افکار سے بھی تیز تھی رفتار مری
جسم کے خول سے جب میں نے نکل کر دیکھا

پاؤں جمتے ہی گئے تیرے بدن پر میرے
زندگی! موت کی جانب جو پھسل کر دیکھا

بے وفائی بھی ہوئی اس کی طرف سے یارو
جانبِ زیست بہت میں نے ہے چل کر دیکھا

کس نے افکار کے پھولوں کو مقید رکھا
کس نے جذبات کو ہر آن مسل کر دیکھا

ضبط کی حد سے کبھی بھی نہیں نکلا میں مرادؔ
زہر نفرت کا سبھی اس نے اگل کر دیکھا

شفیق مراد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم