MOJ E SUKHAN

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی
وہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی

دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکا
کیا بات کر رہی تھی وہ کیا بات کر گئی

نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھول
جب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی

راتوں سے چھین کر وہ چراغوں کی روشنی
جب صبح ہو گئی تو اسے رات کر گئی

حد ادب میں یوں تو مرے سل گئے تھے ہونٹ
اک خامشی بھی کتنے سوالات کر گئی

پھر اس کے بعد میری سماعت ہی کھو گئی
کانوں میں میرے جانے وہ کیا بات کر گئی

آنکھوں میں کچھ نمی تو ہمیشہ رہی ہے شادؔ
آنکھوں کی اس نمی کو وہ برسات کر گئی

اشرف شاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم