MOJ E SUKHAN

اس کے بغیر اپنا بھی ایسا ہی حال تھا

اس کے بغیر اپنا بھی ایسا ہی حال تھا
جیسے خزاں کے بعد گلوں کا جمال تھا

پل بھر کو وہ قریب ہوئے دور ہو گئے
یہ عمر بھر کے ہجر کا کیسا وصال تھا

خوشیوں کا تاج اس نے جبیں پر سجا لیا
جس کے فراق میں یہ مرا دل نڈھال تھا

برسوں کے بعد آج ملا مسکرا دیا
جذبات کو چھپانے میں اس کو کمال تھا

اس کے بغیر پیار کے جلتے کہاں چراغ
یہ میرے ساتھ رہ کے بھی اس کا خیال تھا

اک عشقِ رائیگاں نے کیا درد آشنا
کہنے کو میرا عشق کبھی لا زوال تھا

اقبال اس کے عشق نے سر سبز کر دیا
ورنہ بہار میں بھی کہاں یہ جمال تھا

ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم