MOJ E SUKHAN

اس کے دیدار کو گئی آنکھیں

اس کے دیدار کو گئی آنکھیں
تب ہی بیناٸی کھو گٸی آنکھیں

تجھ کو دنیا میں ڈھونڈنے کے لیے
اک مسافر سی ہو گئی آنکھیں

بس تری دید کی تمنّا تھی
دید کے بعد سو گئی آنکھیں

دل دھڑکنا سکھا گیا دل کو
خواب آنکھوں میں بو گئی آنکھیں

پھر پلٹ کر کبھی نہیں آئیں
وہ ترے ساتھ جو گئی آنکھیں

لوگ بچھڑے ہوئے جو یاد آئے
میرے رخسار دھو گئی آنکھیں

موسم گل میں بھی کبھی زریاب
میرا دامن بھگو گئی آنکھیں

ہاجرہ نور زریاب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم