MOJ E SUKHAN

اس کے ہونٹوں پہ بہ انداز غزل جاؤں گا

غزل

اس کے ہونٹوں پہ بہ انداز غزل جاؤں گا
لفظ ہوں اس لیے آواز میں ڈھل جاؤں گا

کیا غضب آگ دہکتی ہے ترے سینے میں
تجھ سے میں بات بھی کر لوں گا تو جل جاؤں گا

جس طرح دوڑ رہا ہوں مجھے اب لگتا ہے
اپنی منزل سے بہت دور نکل جاؤں گا

اسی بکھراؤ میں میں ہوں مجھے ترتیب نہ دے
اس طرح باندھ کے رکھنے سے بدل جاؤں گا

اب کے ساون میں تری یاد برستی ہے یہاں
اس قدر تیز برستی ہے کہ گل جاؤں گا

آج بھی سوچتے رہنے میں گزارا میں نے
کل بھی میں سوچتا رہ جاؤں گا کل جاؤں گا

جان کر ٹھوکریں کھاتا ہوں کہ گر جاؤں میں
خاک سے خاک ملے گی تو سنبھل جاؤں گا

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم