MOJ E SUKHAN

اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا

غزل

اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا
جس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھا

دام و قفس سے چھوٹ کے پہنچے جو باغ تک
دیکھا تو اس زمیں میں چمن کا نشاں نہ تھا

یہ قمریاں جو سرو کی عاشق ہوئیں مگر
دنیا میں اور کوئی سجیلا جواں نہ تھا

کیوں کر ملی ہو گل سے جو آتی ہو خوش دماغ
اے بلبلوں چمن میں مگر باغباں نہ تھا

لاچار لے دل اپنا گیا گور میں یقیںؔ
اس جنس کا جہاں میں کوئی قدرداں نہ تھا

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم